ممبئی،5اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں اپوزیشن پارٹی کانگریس اور این سی پی نے ممبئی کی آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کو لے کر بی جے پی اور شیوسینا پر نشانہ لگایا ہے۔این سی پی نے شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے پر شدید حملہ بولتے ہوئے پوچھا کہ ہفتہ کی رات جب درختوں کی کٹائی شروع ہوئی تو’فرضی پریوار پریمی‘ کہاں تھے۔وہیں کانگریس نے کہا ہے کہ کیا شیوسینا کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد درختوں کو بچانے سے زیادہ ضروری ہے۔این سی پی کے ترجمان نواب ملک نے ٹویٹ کیاکہ آرے میں درختوں کی کٹائی کچھ نہیں بلکہ ممبئی شہریوں کو لاچار بنا کر زخمی کرنا ہے۔شیوسینا گزشتہ 25 سال سے اس پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے،اب، وہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے عام ممبئی شہریوں کو تکلیف دے رہے ہیں۔ ملک نے ٹھاکرے اور بی جے پی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھاکہ کہاں ہیں وہ ماحول دوست جو درختوں کی کٹائی کے درمیان پلاسٹک پر پابندی کی حمایت کر رہے ہیں۔ این سی پی کے ایک اور لیڈر دھننجے منڈے نے درختوں کی کٹائی کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر اس کے خلاف مظاہرہ کرنے والے لوگوں کی آواز کو دبانے کا الزام لگایا۔دوسری طرف کانگریس نے شیوسینا سے پوچھا کہ کیا اس کے لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد، درختوں کو بچانے سے زیادہ اہم ہے۔مہاراشٹر کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے ٹویٹ کیاکہ شیوسینا یہی وقت ہے،آپ حکومت میں ہیں، اسے بند کروا سکتے ہیں،کیا مہایت (مہاگٹھ بندھن) درختوں کے بڑے نقصان سے زیادہ اہم ہے؟۔ساونت نے ٹھاکرے پر حملہ کرتے ہوئے پوچھا’کیم چھو آرے فوریسٹ‘۔دراصل،ممبئی ہائی کورٹ نے شمالی ممبئی میں سبز علاقے آرے کالونی میں میٹروکے لیے پارکنگ بنانے کیلئے درختوں کی کٹائی کی مخالفت کرنے والے ماحول کارکنوں کی عرضیاں مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن لمیٹڈ نے جمعہ دیر رات درختوں کی کٹائی شروع کر کی۔